یہ رہگزر بھی کڑی ہے، مگر تھکنا نہیں
ہوا خلاف سہی، دل کا دیا بجھنا نہیں
جو خواب ٹوٹ گئے، اُن پہ نہ رو، آگے بڑھ
نئی سحر کے لیے، رات کا رونا نہیں
ہر ایک زخم نے تجھ کو نیا مان دیا
یہ درد قسمت ہے، کوئی بہانہ نہیں
نظر اُٹھا کے چلو، آسمان منتظر
زمیں پہ رُکنے کا اب تو زمانہ نہیں 🌙
---
چاہو تو میں اس نظم کو اداس رومانی, حوصلہ افزا, یا صوفیانہ رنگ میں بدل دوں؟ کون سا انداز پسند کرو گے؟
